پارکنگ سے ہی سمندر کا نظارہ شروع ہو گیا
سیول میں کام ختم کر کے ڈیجیون گھر واپس جا رہے تھے۔ ہائی وے پر چڑھنے سے پہلے کار میں بیوی کے ساتھ “کہیں رُک جائیں؟” کی بات ہو رہی تھی، فون چیک کرتے ہوئے جیبو جزیرہ سیوہیرنگ کیبل کار کا ذکر نکلا۔ سرچ کیا تو ڈسکاؤنٹ ٹکٹیں مل گئیں، سوچا “ابھی خرید لیں اور چل پڑیں؟” بیوی نے کہا “سیدھا راستہ تو نہیں” مگر مسکرا دی۔
ویک ڈے تھا، لوگ کم ہوں گے، ویک اینڈ پر لائنیں برداشت نہیں، ابھی ٹھیک وقت ہے سوچ کر فوراً پے کیا۔ فروری کا آغاز، سرد موسم، مگر کار میں گرم تھا اور سمندر پر 2.12 کلومیٹر اڑنے کا خیال دلچسپ لگا۔ نیوی لگا کر نکل پڑے۔
پارکنگ سے ہی خوبصورت سمندری نظارے
کار پارک کی اور ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف چلے تو پائن درختوں کے درمیان سمندر پھیلا ہوا تھا۔ دور ایک چھوٹا جزیرہ، اس کے پیچھے دو سفید ونڈ ٹربائنز – سوچا بھی نہ تھا اتنا پیارا ہوگا۔ فروری کا صاف آسمان، ٹھنڈی ہوا، کوٹ کا کالر اوپر کر کے کھڑے ہو کر دیکھتے رہے۔ بیوی فون نکال کر تصاویر لینے لگ گئی۔ پارکنگ سے ہی اتنا اچھا تو کیبل کار میں کیا ہوگا، امید بڑھ گئی۔
پارکنگ سے 100 میٹر چڑھائی کے بعد اسٹیشن بلڈنگ آ گئی۔ ڈھلوان کافی تھی۔ شیشے کی بلڈنگ دھوپ میں چمک رہی تھی، ویک ڈے دوپہر، لوگ کم۔ نوٹ: بزرگ یا چلنے میں دشواری والوں کے ساتھ آئیں تو آہستہ چڑھیں – ریلنگ ہے مگر واقعی کھڑی ہے۔ بیوی نے بیچ میں کہا “اترنے میں اور احتیاط کرنی پڑے گی”۔
ٹکٹ کاؤنٹر اور خریداری – ویک ڈے کی آرام دہ فضا
گراؤنڈ فلور میں داخل ہوئے تو ٹکٹ کاؤنٹر، اونچی چھت، صاف ستھرا انٹیریر – لگژری فیل۔ میں نے آن لائن بک کر رکھی تھی، مگر نہ کی ہو تو یہاں بھی مل جاتی ہے۔ سٹاف بہت مہربان۔
جیبو جزیرہ کیبل کار کی خوبصورتی یہ کہ سیول سے ایک گھنٹہ، رسائی آسان۔ انچیون ایئرپورٹ کی طرف ہے، فلائٹ سے پہلے یا بعد رُک سکتے ہو۔ مگر ویک اینڈ اور چھٹیوں میں بھیڑ، آن لائن ریویوز میں 30 منٹ سے 1 گھنٹہ لائن کا ذکر۔ میں فروری ویک ڈے دوپہر آیا، کاؤنٹر کے سامنے کوئی نہیں، فوراً ٹکٹ لے کر اوپر چڑھ گئے۔ سردیوں کا آف سیزن اور ویک ڈے، بالکل خالی۔ اگر آرام سے سمندر پر کیبل کار کا مزہ لینا ہے تو ویک ڈے ضرور آئیں، زور دے کر تجویز کرتا ہوں۔
آٹومیٹک مشینیں اور QR ٹکٹ پرنٹ
کاؤنٹر کے پاس تین آٹومیٹک مشینیں تھیں۔ کوریا میں کیوسک کلچر بہت ترقی یافتہ، سیاحتی جگہوں پر بھی زیادہ تر خودکار۔ اب کیش کم استعمال ہوتا ہے، کارڈ یا ایپ پے۔ میں نے آن لائن ٹکٹ کا QR اسکین کیا، سیکنڈوں میں پرنٹ ہو گئی۔ لائن کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ بزرگ یا غیر ملکی سیاحوں کے لیے سٹاف والا کاؤنٹر بہتر۔
ٹکٹ لے کر سیڑھیاں اور لفٹ نظر آئی۔ فرش پر راستہ نشان، پاس ایک چھوٹی کیفے۔ صحت مند سیڑھیاں چڑھ سکتے ہیں، میں سستی میں لفٹ لے لی۔ بیوی نے کہا “سیڑھیاں چڑھیں تو ورزش بھی ہو جائے” مگر سیول میں سارا دن گھومنے سے ٹانگیں تھک گئی تھیں۔ ویک ڈے، لفٹ فوراً آ گئی۔
انتظار سے سواری تک
لفٹ سے اوپر انتظار ایریا – ایئرپورٹ جیسا۔ جگ زیگ باڑیں، کھڑکیوں سے سمندر۔ ویک ڈے، مکمل خالی، صرف ہم دونوں۔ فوراً سمجھ آ گیا کہ ویک اینڈ پر یہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہ ملے۔
باڑیں گن کر دیکھیں تو بہت تھیں – سیزن میں کتنی لمبی لائن ہوتی ہوگی اندازہ ہو گیا۔ بیوی نے بھی کہا “ویک ڈے آنا اچھا فیصلہ تھا”۔ اگر گرمیوں یا چھٹیوں میں آئیں تو کم از کم 30 منٹ سے 1 گھنٹہ انتظار کے لیے تیار رہیں۔
انتظار ایریا پار کر کے براہ راست سواری پوائنٹ۔ کیبل کار مسلسل گھومتی آتی جاتی، سکی ریزورٹ گونڈولا جیسے بغیر رُکے۔ ہمارے آگے صرف دو افراد، جلدی سوار ہو گئے۔
کیبن سوچ سے بڑی، 8 افراد کی گنجائش۔ ویک ڈے، صرف ہم۔ بیوی نے کھڑکی والا سیٹ پکڑ لیا اور بولی “صرف ہم، زبردست!” ویک اینڈ پر اجنبیوں کے ساتھ شیئر کرنا پڑتا، یہ بھی ویک ڈے کا فائدہ۔
سٹاف نے دروازہ کھولا، تیزی سے سوار ہو گئے۔ پہلے کیبل کار سے ڈرتا تھا، اونچائی کا خوف، ہاتھ پسینے چھوٹتے، اب عادت ہو گئی، اب تو جوش آتا ہے۔ بیوی پہلے ہی کھڑکی سے چپکی فون لیے تیار تھی۔
سمندر پر 2.12 کلومیٹر اڑان – سیوہیرنگ کیبل کار تجربہ
دروازہ بند، شروع ہوئی تو سامنے سمندر پھیل گیا۔ جوش سے کھڑکی ہی دیکھتا رہا۔
کیبل کار جوں جوں اوپر، سمندر مزید کھلتا گیا۔ کھڑکی پر سیوہیرنگ لوگو، دور ونڈ ٹربائنز اور جزیرے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو سمندر کے بیچ ستون، دھوپ میں چمکتا سمندر – واقعی خوبصورت۔ بیوی مسلسل تصاویر لے رہی تھی اور بول رہی “یہاں کی تصاویر پاگل پن ہیں”۔
بیوی کھڑکی سے چپکی سمندر دیکھ رہی تھی، میں نے چپکے ایک تصویر لے لی۔ ٹوپی پہنے، بیگ لٹکائے، کھڑکی کی طرف دیکھتی پچھلی شکل جذباتی تھی۔ باہر ستون، جزیرے، سمندر سبز رنگت لیے چمک رہا تھا۔ فروری مگر موسم صاف، بصارت بہترین۔
اوپر سے موسیٰ کے معجزے والی سڑک کا نظارہ
درمیان میں نیچے دیکھا تو سمندر کے بیچ سڑک۔ یہی وہ مشہور موسیٰ کا معجزہ والی سمندری سڑک ہے۔ دن میں دو بار کم جوار پر سمندر الگ ہوتا ہے اور زمین کو جیبو جزیرہ سے جوڑنے والی سڑک نظر آتی ہے، لمبائی تقریباً 1.8 کلومیٹر۔
جوار کا وقت ملے تو اس سڑک پر کار چلا کر پار کر سکتے ہیں، بلند جوار پر پوری ڈوب جاتی ہے۔ کیبل کار سے دونوں طرف ٹائیڈل فلیٹ اور چمکتا سمندر – واقعی عجیب۔ پہلے کچی تھی، اب کاروں کے لیے پکی کر دی۔ اوپر سے دیکھنا ہی کیبل کار کا اصل مزہ ہے۔
سمندر پر بڑے ستون اور 2.12 کلومیٹر کا احساس
ایک ستون کے پاس سے گزرے تو اس کی اونچائی حیران کن۔ سمندر کے بیچ اتنی بڑی لوہے کی ٹاورز کھڑی کرنا عجیب لگا۔ نیچے لہروں سے بچاؤ کی پیچیدہ ساخت، اوپر کیبنز لٹکی آتی جاتی۔
پیچھے شروع کا اسٹیشن، آگے جیبو جزیرہ قریب آتا محسوس ہوا۔ 2.12 کلومیٹر ہوا میں لٹک کر جانے کا احساس انوکھا۔ بیوی نے پوچھا “ایک ستون سارا وزن سہتا ہے؟” میں نے کہا “اسی لیے کیبل کار زبردست ہے”۔
کیبن اندر کی تصویر – کھڑکیاں بڑی، نظارہ شاندار۔ نارنجی سیٹوں پر بیٹھ کر دیکھا تو سمندر پھیلا، دور جیبو جزیرہ۔ عام کیبن مگر فرش تک شیشہ، نیچے سمندر صاف دکھائی دیتا، مکمل اطمینان۔ کرسٹل کیبن میں فرش مکمل شفاف ہوتا ہے، مگر یہ بھی کافی ہے۔
صرف ہم دونوں، زیادہ آرام، کھڑکی سے چپک کر خوب تصاویر لیں۔ فروری مگر موسم صاف، نیلا آسمان، سبز سمندر – خوبصورت۔ 10 منٹ جلدی گزر گئے۔
جیبو جزیرہ پہنچ کر – مفت سرکلر بس سے جزیرہ گھومنا
جیبو جزیرہ اسٹیشن پہنچے۔ دوسری طرف بھی صاف ستھرا، اشتہارات اور پھولوں کی مالائیں – شاید حال ہی میں کھلا۔ راؤنڈ ٹرپ ٹکٹ تھی، واپس جانا تھا مگر فوراً جانا افسوس ہوتا۔
اس لیے مفت سرکلر بس کا فیصلہ۔ کیبل کار ٹکٹ والوں کو بس مفت۔ جزیرے میں مختلف سٹاپ، سیاحتی جگہوں پر جا سکتی ہے۔ ویک ڈے، سیٹیں خالی۔ ویک اینڈ یا سیزن میں شاید نہ ملے۔ ہم نے ایک چکر کا ارادہ کیا۔
سیوہیرنگ مفت سرکلر بس روٹ اور ٹائم
انٹرینس پر بڑی بورڈ، سیوہیرنگ BUS لکھا اور جزیرے کا سرکلر روٹ۔ کیبل کار مسافروں کے لیے مفت سہولت – ٹکٹ ہو تو کوئی بھی سوار ہو سکتا ہے۔
ٹائم ٹیبل پر ہر 30 منٹ، ویک ڈے اور ویک اینڈ الگ۔ سٹاپس: بندرگاہ، کیمپ، موسیٰ پارک، بہترین ویو پوائنٹ، فش تھیں میوزیم، نگلنے والی دم والی راہ وغیرہ۔ موسم اچھا ہو تو بیچ میں اتر کر گھوم سکتے ہیں۔ ہم سردی کی وجہ سے ایک چکر ہی کیا۔
بس آئی تو سوچ سے چھوٹی۔ “کیبل کار ٹور بس” لکھا منی بس، زیادہ مسافر نہیں۔ اندر 10 کے قریب سیٹیں۔ ویک ڈے، چند مسافر، ویک اینڈ پر سیٹ مشکل۔
بس سے جیبو جزیرہ کے نظارے 15 منٹ
مفت بس سے جزیرہ ایک چکر تقریباً 15 منٹ۔ کھڑکی سے ساحل، ٹائیڈل فلیٹ، چٹانیں، یاٹوں والی بندرگاہ گزری۔ تصاویر لینے کی کوشش کی مگر بس ہلتی تھی، سب دھندلی آئیں۔ معذرت۔
ایمانداری سے سواری آرام دہ نہ تھی۔ منی بس، سڑک کی چھوٹی سی گڑھے بھی محسوس ہوتے۔ سردی میں باہر اترنا مشکل، بس ایک چکر نظارے دیکھنا بھی برا نہ تھا۔ اچھے موسم میں دوبارہ آئیں تو بیچ میں اتریں گے اور آہستہ گھومیں گے۔
بس سے اترے تو لوگ جمع تھے – ڈرامہ شوٹنگ چل رہی تھی۔ ساحلی گارڈ ہیلی کاپٹر کے سامنے اداکار اور سٹاف بھرے تھے۔ بیوی نے “یہ شوٹنگ ہے!” کہہ کر فون نکالا، میں نے بھی چپکے ایک تصویر لی۔ کیا ڈرامہ ہے نہیں پتا، نشر ہونے پر دیکھیں گے۔
واپسی کیبل کار اور پالتو جانوروں کی معلومات
جیبو جزیرہ اسٹیشن سے دوبارہ کیبل کار سوار۔ عمل وہی، تفصیل چھوڑ دیتا ہوں۔ راؤنڈ ٹرپ، فوراً سواری، پھر صرف ہم۔ واپسی میں بھی نظارے خوبصورت، مگر پہلی بار جیسا جوش نہ تھا۔ پھر بھی کھڑکی دیکھتے “اگلی بار گرمیوں میں آئیں؟” جیسی باتیں کرتے آرام سے گئے۔
اگر پالتو جانور کے ساتھ کیبل کار جانا ہو
اترتے ہوئے پالتو جانوروں کا نوٹس اور کیج دیکھا۔ سیوہیرنگ کیبل کار میں پالتو جانور اجازت، مگر کیج میں ہی، باہر بالکل نہ نکالیں۔ رضامندی فارم بھرنا لازم۔
خلاصہ: کیبل کار استعمال میں جانور کیج میں رہے، کرائے کے کیج کو نقصان یا گم ہو تو مفت مرمت نہیں، ذاتی معلومات اور دستخط لازم، نام، پیدائش، موبائل، گھر فون – استعمال کی تاریخ سے 1 سال بعد حذف۔ پالتو جانور والوں کے لیے مفید۔ کیج وہاں ملتے ہیں، چھوٹے سے درمیانے کتوں کے لیے کافی۔
اختتام
پوسٹ تھوڑی لمبی ہو گئی، مگر سفر کی کہانی کیسے بیان کروں سوچتا رہتا ہوں۔ لفظوں کی حد ہوتی ہے۔ تصاویر سے بھی ہوا کی آواز، کیبل کار کی حرکت، سمندر پر گزرنے کا لرزہ پوری طرح نہیں آتا۔ اس لیے ویڈیو بھی دکھانے کا سوچ رہا ہوں۔
ویڈیو کیسے پیش کروں ابھی فیصلہ نہیں – اپنی سائٹ پر اپنا پلیئر اور کثیر لسانی سب ٹائٹلز یا یوٹیوب پر آسان۔ دونوں کے فائدے نقصانات ہیں۔
مگر یقینی بات یہ کہ امسال وسط سے VOD سروس بھی تیار کر رہا ہوں۔ سفر کی ویڈیوز زیادہ زندہ اور تین جہتی دکھانے کے لیے۔ دلچسپی رکھیں۔ جیبو جزیرہ کیبل کار جیسے اچھے مقامات مسلسل متعارف کرواتا رہوں گا!
یہ پوسٹ اصل میں https://hi-jsb.blog پر شائع ہوئی تھی۔